احوال و آثار خواجہ فریدؒ
SKU: 84831764613

احوال و آثار خواجہ فریدؒ

Sale price$180.00 Regular price$200.00
Save 10%

Shipping Estimate
USA
  • USA
  • CAN

Ships within 48 hours · Estimated delivery Jul 5 - Jul 10

Promo Codes Available:

For Your Every Summer RSVP, with Code: SUMMER15

Description

احوال و آثار خواجہ فریدؒ" " 23 1845 " " 13 "" " " " " 23 1901 56 5 " " " " 7 2021 " "" "" "" " "" "" "" "" " " "" " " " " " " " " " " ( ) " " " 272 9 2021

جناب مرزا حبیب الرحمن صاحب کا ایک شاندار علمی و تحقیقی تحفہ
"احوال و آثار خواجہ فریدؒ"
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
برصغیر کے نامور صوفی شاعر حضرت خواجہ غلام فرید23 دسمبر 1845ء کو چاچڑاں،ریاست بہاول پور میں پیدا ہوئے۔والد کا نام خواجہ خدا بخش عرف محبوب الٰہی تھا۔آپ کے آباؤ اجداد فاتحین سندھ کے ساتھ عرب سے سندھ میں داخل ہوئے تھے۔ خاندان کے ایک مرید مٹھن خان کے نام سے"کوٹ مٹھن" کے نام سے ایک قصبہ آباد ہوا جہاں پہلے آپ کے اجداد نے سکونت اختیار کی۔بعد ازاں چاچڑاں شریف منتقل ہوگئے۔ آپ کی پیدائش بھی وہیں پر ہوئی۔آٹھ برس کی عمر میں والد کا انتقال ہوگیا۔جس کے بعد آپ چار سال تک شاہی محل میں نواب خاندان کی سرپرستی میں رہے۔ریاست بہاولپور کے نواب خاندان کے تمام افراد آپ سے گہری عقیدت رکھتے تھے اور آپ کے مریدین میں شامل تھے۔
بعد میں 13 سال کی عمر میں چاچڑان حاضر ہوکر بڑے بھائی خواجہ غلام فخرالدین کے ہاتھ پر بیعت کی جو ایک بہت بڑی روحانی شخصیت تھے۔ آپ نے ان سے روحانی فیض حاصل کیا۔ستائیس سال کی عمر میں بڑے بھائی کا بھی انتقال ہوگیا ۔جس کے بعد آپ خود مسند نشیں ہوئے اور والدین سے ملنے والے روحانی فیض کو جاری رکھا۔خواجہ غلام فرید نے مسندنشیں ہونے کے بعد روزانہ کی بنیاد پر لنگر خانے کا اہتمام کیا۔آپ بہت سخی دل اور درویش صفت انسان تھے۔ آپ کی سخاوت کا یہ عالم تھا کہ آپ کے پاس جو کچھ ہوتا تھا شام تک لوگوں کو بانٹ دیتے تھے اور خود گندم کی روٹی اور گائے کے دودھ سے گزر بسر کرتے تھے۔
خواجہ غلام فرید نے اپنے روحانی تجربات کو شاعری کے ذریعے عام لوگوں تک اور اپنے چاہنے والوں تک پہنچانے کا فیصلہ کیا اور سرائیکی زبان کو ذریعہ اظہار بنایا ۔"کافی"آپ کی شاعری کی سب سے نمایاں صنف ہے، جس کو سرائیکی ادب کا بہت بڑا سرمایہ سمجھا جاتا ہے۔ آپ کی شاعری تصوف اور معرفت کے خزانوں سے بھری ہوئی اور اس میں تصوف کی نمایاں جھلک نظر آتی ہے ۔ زندگی کے معاملات کا کوئی زاویہ ایسا نہیں جس کا احاطہ ان کی شاعری میں نہ کیا گیا ہو ۔ اس حوالے سے خواجہ فریدؒ کے ہاں فکری اعتبار سے ایسا تنوع موجود ہے جو ان کے علاوہ کسی دوسرے شاعر کے ہاں دکھائی نہیں دیتا ۔خواجہ فریدؒ کی کافیوں کا مطالعہ کیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ ان کے ہاں لفظ و معنی کا ایک اور ہی جہاں آباد ہے ۔ اس تنا ظر میں انہوں نے جو علامتی اور استعاراتی نظام تخلیق کیا ہے اس کی اساس انکے اپنے وسیب پر ہے اور اس وسیب کا پورا عکس ان کے اسلوب و بیان کی توانائی اور رعنائی کے ساتھ ابھرا ہے۔
خواجہ صاحب کے کلام میں عشق حقیقی اور عشق مجازی دونوں کا سراغ ملتا ہے لیکن عشق حقیقی کا رنگ آپ کی شاعری میں زیادہ نمایاں اور غالب ہے۔ آپ کا نظریہ ہمہ اوست تھا اور آپ وحدت الوجود کے قائل تے۔ پروفیسر دلشاد کلانچوی آپ کے بارے میں لکھتے ہیں کہ خواجہ صاحب عموماً حالت وجد میں شعر کہتے تھے اور جب آپ پر الہامی کیفیت طاری ہوتی تھی تو آپ بڑی بڑی کافیاں وجد کی حالت میں کہہ جاتے تھے۔ وہ مزید لکھتے ہیں کہ ہر وقت ”فکر سخن ”میں رہنا ان کا معمول تھا۔
حضرت علامہ اقبال خواجہ صاحب کے بارے میں فرماتے ہیں کہ "جس قوم میں خواجہ فرید جیسے صوفی شاعر اور ان کی شاعری موجود ہو تو اس قوم میں عشق و محبت کا نہ ہونا تعجب کا باعث ہے۔ "اس لیے آپ کی شاعری میں حسن و عشق کا چرچا بھی ملتا ہے۔ مولانا کوثرنیازی کے بقول " خواجہ صاحب سرائیکی زبان بولنے والوں اور سرائیکی علاقے کے لوگوں کے روحانی بادشاہ ہیں اور آپ کی شاعری لاکھوں دلوں پر راج کرتی ہے۔"
یہی وجہ ہے کہ خواجہ صاحب کا کلام اپنی شاعرانہ لطافت کے باعث سرائیکی خطے کے ہر خاص و عام میں اس لیے یکساں مقبول ہے کہ اُس میں زندگی کی امید کا پیغام ملتا ہے۔آپ کے کلام کے ہر رنگ میں ایک مٹھاس اور شیرینی پائی جاتی ہے جو کہ سرائیکی ثقافت کی عکاسی کرتی ہے۔ آپ نے اپنی شاعری کے ذریعے نہ صرف سرائیکی خطے کی ثقافت کو اجاگر کیا ہے بلکہ محبت، اخوت اور بھائی چارے کا درس بھی دیا ہے۔
خواجہ غلام فرید کا انتقال 23جولائی 1901کو 56 سال کی عمر میں ہوا۔ ہر سال 5ربیع الثانی کو آپ کا عرس" کوٹ مٹھن" شریف میں انتہائی عقیدت سے منایا جاتا ہے اور ضلعی سطح پر عام تعطیل کا اعلان کیا جاتا ہے۔
آپ کی شاعری تصوف اور معرفت کے خزانوں سے بھری پڑی ہے۔ آپ کی دو سو سے زیادہ کافیاں مطبوعہ ہیں اور دیوان فرید میں شامل ہیں۔دیوان فرید کا پہلا مجموعہ آپ کی زندگی میں ہی شائع ہو گیا تھا، جس میں کافیاں اور ڈوہڑے بھی شامل تھیں۔ ماہرین فریدیات آپ کو سرائیکی زبان کی شاعری کا رومی قرار دیتے ہیں اور وہ یہ سمجھتے ہیں کہ جس طرح رومی اپنے انقلابی پیغام کے ذریعے لاکھوں دلوں پر راج کرتے ہیں۔ اسی طرح خواجہ صاحب بھی اپنی آفاقی شاعری کی بنا پر وسیب کے لاکھوں دلوں پر راج کرتے ہیں۔ خواجہ فریدؒ نے سات زبانوں میں شاعری کی ہے مگر سب سے زیادہ پذیرائی انکے سرائیکی کلام کو ملی ہے ۔ حضرت خواجہ فرید کے پائے کا شاعر سوسال بعد بھی سرائیکی وسیب میں پیدا نہیں ہوا ۔
"احوال و آثار خواجہ فرید"
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
جناب انور بودلہ کی حضرت خواجہ غلام فرید پر شاندار تحقیقی کتاب ہے جو کہ اتوار 7 فروری 2021ء کو خان پور سے تشریف لائے ممتاز علمی و ادبی سیاسی اور سماجی شخصیت برادرم مرزا حبیب الرحمن صاحب نے ہمیں تحفتاً پیش کی۔انور بودلہ کی یہ کتاب گیارہ ابواب"خواجہ غلام فرید اور مورخین"،"خواجہ فرید کا نکاح سوم اور چار ماہرین فریدیات کے مغالطے"،"تعارف ملفوظات خواجہ فرید"،"خواجہ فرید کا ایک نادر فتویٰ"،خواجہ فرید کے چچا زاد بھائی"،"بسلسلہ دبستان خواجہ فرید"،"خواجہ فرید کے اسفار"،"خواجہ فرید کی تاریخ گوئی"،"پیرفیض الامین فاروقی کی تاریخ گوئی"، "صاحبزادہ فیض الامین فاروقی"اور"حیات خواجہ فرید ماہ وسال کے آئینے میں"پر مشتمل ہے۔جبکہ کتاب کا اظہار تشکر جناب مرزا حبیب الرحمن اور محبوب تابش کے نام منسوب ہے۔
جناب محبوب تابش کہتے ہیں کہ "انور بودلہ سرائیکی خطے کے ایک فقیر منش کھوج کار اور رسیا علم شخصیت ہیں۔"خواجہ فرید احوال و آثار "ان کی اسی کھوج اور محبت کا حاصل ہے۔خانوادہ فرید کی علمی شخصیت طاہر محمود کوریجہ کی کتاب"خواجہ فرید اور اُن کا خاندان"کے بعد بودلہ صاحب کی یہ کتاب اپنی نوعیت کی اہم کتاب شمار ہوگی۔اس کام کو انور بودلہ نے نہایت عرق ریزی اور جاں فشانی سے سرانجام دیا ہے۔"
حضرت خواجہ غلام فرید کے حوالے سے مولوی عبدالرشید ارشد کی ایک تحریر کی گرفت کرتے ہوئے انور بودلہ صاحب لکھتے ہیں کہ "مریدان تسمہ پا نے کیا کیا گل کھلائے ہیں،جھوٹ کی کوئی حد ہوتی ہے مولوی عبدالرشید ارشد نے حقائق کو مسخ کرتے ہوئے مذکورہ بالا جھوٹا واقعہ اپنے مضمون میں تحریر کردیا ہے ۔مضمون نگار قیامت والے دن اپنے ممدوح حضرت علامہ انور شاہ جاٹ کشمیری کا کیسے سامنا کریں گے ۔۔۔۔اصل میں جب فرقہ پرستی دماغ پر غالب آجائے تو تہذیب کا دامن چھوٹ جاتا ہے پھر جس کے جو جی میں آئے صفحہ قرطاس پر لغو گوئی کرتا رہتا ہے۔"
عبدالرشید ارشد کی ایک اور غلط بیانی کی گرفت کرتے ہوئے انور بودلہ صاحب مقدمہ بہاول پور کے حوالے سے آگے چل کر لکھتے ہیں کہ "جسٹس محمد اکبر خان کی تحریر سے مترشح ہوتا ہے کہ موصوف جج علمائے دیوبند کے طویل بیانات سے مطمئن نہیں ہوا تھا۔جج موصوف اگر مطمئن ہوئے تو علامہ غلام احمد پرویز (جسے عرف عام میں منکر حدیث نیچری دہریہ کافر تک کہا جاتا ہے)کے مضمون سے،اس مضمون کی بنیاد پر جسٹس محمد اکبر خان نےاپنا مرزائیت کے خلاف فیصلہ دیا تھا۔جسٹس محمد اکبر خان کی تحریر سے مولوی عبدالرشید ارشد کے تصوراتی محلات دھڑام سے گر جاتے ہیں۔"
کتاب کا پہلا باب"خواجہ فرید اور مورخین "دراصل ایسی ہی غلط اور جھوٹی روایات کی شاندار علمی و تحقیقی گرفت پر مبنی ہے۔چنانچہ اس تناظر میں بلا تردد یہ کہا جاسکتا ہے کہ انور بودلہ صاحب کی یہ علمی کاوش خواجہ غلام فرید کی شخصیت کے حوالے سے کئی نئے گوشے کھولنے اور بہت سے تاریخی مغالطے درست کرنے کی بھی عمدہ کوشش ہے۔ہم اس عمدہ کوشش پر جناب انور بودلہ صاحب کو مبارک باد پیش کرتے ہوئے برادرم مرزا حبیب الرحمن صاحب کے بھی بے حد مشکور ہیں کہ ان کے اس شاندار تحقیقی تحفہ کی بدولت نہ صرف یہ ہماری معلومات میں گرانقدر اضافہ ہوا بلکہ حضرت خواجہ فرید کی زندگی اور شخصیت کے حوالے سے بھی کئی اہم انکشافات سامنے آئے ہیں۔اہل ذوق کے لیے 272 صفحات پر محیط یہ کتاب فکشن ہاوس نے شائع کی ہے۔
محمداحمد ترازی
مورخہ 9 فروری 2021ء کراچی
Shipping Notes
  • Free Standard Shipping on $100+ Orders to the USA.
  • Except Preorder products are shipped in 48 hours.
  • Delivery to the USA:
  1. Standard Shipping : 3-10 business days
  • If time is of the essence, please consider selecting expedited delivery for faster service.
Exchange/Return Notes
  • We offer a 30-day return/exchange service after receiving.
  • Final sale items are not eligible for returns or exchanges.
  • To process your return/exchange, please contact us at [email protected]
  • Please click here for more details>>> Return & Exchange Policy
SKU: 84831764613

Discover Niche Categories That Outsell

Top-Converting Item to Boost Your Average Order

4.2 ★★★★★
Based on 1229 reviews
Sort
Highest Rating
Newest First
Oldest First
Product Reviews
K
Verified Purchase
KAP
Houston, US
★★★★★ 3
So nice but not a good fit on my foot
I love these boots so much, they’re exactly what I wanted. Unfortunately, they are too big in the heel and flop, while too tight in the toe. I know the toe would stretch with wear, but can’t deal with a floppy heel, they pulled my socks down off my feet. I do have narrow feet. Too bad, I’m so disappointed! They seem well made and would go with everything. Comfortable, too, if they fit right.
WAS THIS REVIEW HELPFUL?YesReportShare
Reviewed in the United States on October 31, 2018
C
Verified Purchase
CAlexander
Massapequa, US
★★★★★ 5
Extremely comfy!!!
I’m from Alaska and these boots are amazing!! I’m ordering a second pair. Cute for the office, but also 100% keep your feet warm from Snow or water. These are so Comfy
WAS THIS REVIEW HELPFUL?YesReportShare
Reviewed in the United States on April 3, 2021
K
Verified Purchase
KR
Whiting, US
★★★★★ 5
Best boots I have ever purchased
I do appraisal work so I was looking for something cute/professional yet durable and rugged for when I work outside in all types of weather. Found it! So comfortable, so cute, and waterproof. I wear them most days for both office work and inspection work. I range between 8.5-9 and I got a 9 and they fit great both with thin socks or thick socks. I very highly recommend.
WAS THIS REVIEW HELPFUL?YesReportShare
Reviewed in the United States on October 7, 2020
E
Verified Purchase
emland11
Birmingham, US
★★★★★ 5
Perfect for travel... very comfortable!
These things are amazing! I bought these a couple weeks before a trip to Italy and had planned on doing a lot of walking in them. I only got to wear them a couple times before we went on our trip, but no blisters, even during LOTS of walking in them on the trip! They wore in super quickly while still keeping their durability. My feet stay dry even in lots of rain. The photos show the wear on them after a few months, including a couple weeks of travel, and weeks of wear around town. My only complaint is that there is a tiny something (a little knot of thread with glue? not sure...) that is at the top of the opening of the boot, and it rubs the back of my ankle and makes a sore. That isn't enough to make me not wear them though. There's a photo that shows this. As you can see it's super tiny, and probably not even a flaw, it just hits my ankle *just* right so that it rubs.
WAS THIS REVIEW HELPFUL?YesReportShare
Reviewed in the United States on August 10, 2018
A
Verified Purchase
Amazon Customer
Omaha, US
★★★★★ 5
These shoes were perfect! Cute design
Spent more than I typically would on shoes to get a quality pair for a trip. Needed a dependable shoe that would be waterproof for hiking and exploring the often wet climate and terrain. These shoes were perfect! Cute design. Very comfortable. Fit as expected. Kept my feet warm and dry. Good for hiking as well as walking the streets of the little towns we explored. I'm glad I invested in these boots!
WAS THIS REVIEW HELPFUL?YesReportShare
Reviewed in the United States on July 29, 2018

recommand products