SKU: 61561890952

یورپ کی ترقی | ولیم برنسٹین | Yourap Ki Taraki

Sale price$225.00 Regular price$250.00
Save 10%

Shipping Estimate
USA
  • USA
  • CAN

Ships within 48 hours · Estimated delivery Jul 9 - Jul 14

Promo Codes Available:

For Your Every Summer RSVP, with Code: SUMMER15

Description

یورپ کی ترقی | ولیم برنسٹین | Yourap Ki Taraki250 ' ' 30 %50% 1600

پہلی بار جب برطانوی ماہر معاشیات اور فلسفی  آدم سمتھ

 نے خوشحالی کے لئے ضروری شرائط کی نشاندہی امن ، آسان ٹیکسز اور عادل قسم قابل برداشت انتظامیہ کی صورت میں کی تب سے بعد کے 250 سالوں میں ماہرین معیشت نے اس کی سادہ کی ترکیب میں کچھ چھان پھٹک کی ہے۔ دو رجدید میں یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہو چکی ہے کہ ٹیکنالوجی کی ترقی ہی معاشی افزائش کا اصل سرچشمہ ہے ۔ دماغ کے استعمال سے ایجادات ، ترقی، پیداوار اور بال آخر صرف کاری کے راستہ کی تلاش سے ہم قابل تفہیم معاشی ترقی کے قابل عمل ڈھانچہ کی تشکیل کر سکتے ہیں ۔ اگر ہم معاشی ترقی کو سمجھ سکتے ہیں تو پھر قوموں کی قسمت کی خاکہ کشتی بھی کر سکتے ہیں ۔

اس کتاب کا بنیادی پیغام یہ ہے کہ کسی قوم کے ادارے ہی اس کی مدتوں پر محیط خوشحالی اور مستقبل کا تعین کرتے ہیں۔ ایسا کرنے میں اس قوم کے قدرتی وسائل، اس کا ثقافتی استحکام، قوت و جبروت، سیاسی و معاشی استحصال میں مہارت حتی کہ فوجی شجاعت کا بھی دخل نہیں ہوتا ۔ خوشحالی کا یہ راستہ چار عوامل / اداروں سے مزین ہوتا ہے۔ ان میں سے کوئی بھی ادارہ کمزور ہو تو انسانی ترقی کی راہ میں رکاوٹ پیدا ہوتی ہے۔ جب بھی کسی ملک میں یہ چاروں ادارے روبہ عمل ہوئے تو انسانی ذہانت تخلیق اور ادارے کے سامنے آنے والی ہر رکاوٹ پاش پاش ہوگئی۔ ایجاد و اختراع میں توسیع ہوئی اور قوم کی خوش حالی نے اس ایجادو اختراع کے قدم چومے پیچھے چلی ۔

پہلی بات تو یہ ہے کہ حکومتوں کو ٹیکنالوجی کے موجدوں کے لئے مناسب ترغیبات مہیا کرنی چاہئیں ۔ اگر ایجادات کا صلہ جائیداد کی ترقی کی صورت میں دیا جائے جیسا کہ قدیم چین میں ہوتا تھا تو سرے سے ترقی کا کوئی امکان ہی پیدا نہیں ہوگا۔ لہذا خوشحالی کے لئے سب سے اولین ضرورت ملکیتی حقوق کا تحفظ ہے۔ سمتھ کے الفاظ میں 'قابل برداشت عادل انتظامیہ' کاروبار کے ثمرات اگر معقول حد تک محفوظ نہ ہوں، تو پیداوار اور ایجادات کرنے والے نا پید ہو جائیں گے۔ اگر مزدور کو اپنی اجرت کا زیادہ حصہ نہیں بچتا تو وہ مشقت نہیں کرے گا ۔ ملکیت کو کئی اطراف سے خطرات لاحق ہو

سکتے ہیں ۔ جرائم سے وابستہ افراد، جابر حکمران اور کبھی کبھار اچھی نیت کے حامل سرکاری افسران اور کسی فلاحی ریاست کے بنک بھی اخراجات اور افراط زر پر قابو نہ پاکر ملکیت یا جائیداد کے لئے خطرہ بن سکتے ہیں ۔ کلیدی تصور اس معاملے میں یہ ہے کہ اختیارات کی تقسیم کر کے حکومتیں قانون کی عملداری کے ذریعہ اور آزاد عدلیہ کے ذریعہ مالکانہ حقوق کا تحفظ کر سکتی ہیں ۔ سادہ کی بات ہے کہ کسی حکمران کا چاہے وہ کتنا ہی دانا اور عادل کیوں نہ ہو شخصی فرمان اور من مانی اس کی قانونی ساکھ کو بر باد کرتی ہے۔ حکمران طبقہ سے بالکل الگ تھلگ بے تعصب اور بے لاگ عدلیہ کے سوا کسی کا فرمان بھی قابل قبول نہیں ہے۔ جو قانون حکمران سمیت ہر شہری پر برابری سے لاگو نہیں ہوتا وہ قانون کہلانے کا مستحق نہیں۔

اگر چه قدیم یونان اور رومی جمہوریہ میں ہی پہلی بار قانون کی عملداری کا نفاذ ہوا تھا مگر پانچ صدیوں سے زیادہ عرصہ تک رومی جمہوریہ کے خاتمہ کی وجہ سے قانون کی یہ عملداری نہ ہونے کے برابر رہ گئی۔ قرون وسطی کے دوران یہ دوبارہ برطانیہ میں ظہور پذیر ہوئی ۔ بیسویں صدی کے افسوسناک سیاسی تجربات نے ہمیں سمتھ کے سادہ مگر گمراہ کن جملہ کی حقیقت پر متنبہ کیا۔ صرف موثر عدلیہ کا وجود کافی نہیں، عدلیہ کو کلی طور پر حکمران کی طاقت ۔ سے الگ ہونا چاہئے اور اس کے فیصلوں کا سب پر یکساں اطلاق ہونا چاہئے۔

سمتھ کے الفاظ میں ٹیکس کا نظام بہت سہل اور آسان ہونا چاہئے کیونکہ ریاست عوام سے بہت زیادہ نہیں لے سکتی ۔ یہ بہت زیادہ کی حد کہاں تک ہے؟ امریکا اور یورپ کی فلاحی ریاستوں کے تجربات سے ایک خام تخمینہ لگا یا جا سکتا ہے۔ ایک خوشحال قوم اپنی پیداوار کا  فیصد 30 با آسانی برداشت کر سکتی ہے جیسا کہ امریکہ میں ہوتا ہے مگر جب حکومتیں شمالی یورپ کے بہت سے ممالک کی طرح %50% کی حد تک پہنچ جاتی ہیں تو تب معاشی افزائش پر اس کے

بھیانک اثرات ہوتے ہیں۔

دوسری بات یہ ہے کہ موجدوں کے پاس مناسب علمی وفنی ذرائع ہونے ضروری ہیں۔ ایک ماہر مستری اپنے ہتھوڑے، آری یا پیمانے کے بغیر بالکل کچھ نہیں کر سکتا ۔ اسی طرح ایک موجد بھی اپنے ماحول کی ترجمانی کرنے والے موثر علمی ڈھانچہ کے بغیر مفلوج ہے ۔ 1600 ء سے پہلے یونان ، روم ، چین ، ہندوستان اور یورپ کے ذہین ترین نیچرل فلسفی بھی ذہنی و علمی ڈھانچہ کے درست اور اک سے عاری تھے ۔ مغربی فرد کا ضمیر اعلیٰ ادب فنون اور فنون لطیفہ میں پنہاں نہیں ہے ، ان علوم کے سرچشمے یونان اور روم کی ثقافت سے پھوٹے ، بلکہ مغربی شخص کا ضمیر تجرباتی چھان پھٹک کی تیز و تند روشنی کے سامنے اپنے تسلیم عقائد کو سرنگوں کرنے کی سادہ سی خواہش میں محصور ہے ۔ یہی حقیقت آج مغرب کو باقی دنیا سے ممتاز کرتی ہے ۔ یونان کی سائنس اور منطق ویسے تو بہت با سطوت تھی مگر وہ حقیقی دنیا کی تلخ حقیقتوں کا نقاب نہ پلٹ سکتی اور وہ انسانیت کو فطرت کا قابل بھروسہ مفید ڈھانچہ مہیا کرنے میں ناکام و نامرادر ہے۔ سائنسی طرز فکر کے زیر اثر صرف تجرباتی میلان ہی اکیلا مناسب ذریعہ یا ہتھیار ، کافی نہیں۔ سماجی اور مذہبی

Shipping Notes
  • Free Standard Shipping on $100+ Orders to the USA.
  • Except Preorder products are shipped in 48 hours.
  • Delivery to the USA:
  1. Standard Shipping : 3-10 business days
  • If time is of the essence, please consider selecting expedited delivery for faster service.
Exchange/Return Notes
  • We offer a 30-day return/exchange service after receiving.
  • Final sale items are not eligible for returns or exchanges.
  • To process your return/exchange, please contact us at [email protected]
  • Please click here for more details>>> Return & Exchange Policy
SKU: 61561890952

Discover Niche Categories That Outsell

Top-Converting Item to Boost Your Average Order

4.0 ★★★★★
Based on 2297 reviews
Sort
Highest Rating
Newest First
Oldest First
Product Reviews
R
Verified Purchase
Roberta Hallahan
Birmingham, US
★★★★★ 4
Can opener
It doesn't shut off by itself when done and doesn't shut off when I push the button, so after a while it will shut off but when it wants too after you take it off the can ,like 30 seconds. But I do like the way it cuts, a clean cut and lid removal nice.
WAS THIS REVIEW HELPFUL?YesReportShare
Reviewed in the United States on February 2, 2026
M
Verified Purchase
Mishele
Belleville, US
★★★★★ 5
terrible item
it worked a few times and it doesnt work at all! Terrible item!
WAS THIS REVIEW HELPFUL?YesReportShare
Reviewed in the United States on June 7, 2026
M
Verified Purchase
Meek
Chelsea, US
★★★★★ 1
Very dangerous metal shavings!!!
Negative stars if I could. This is a very dangerous product. It worked well for a while. But then it quit effectively removing the lid instead I got little tiny shavings of metal around the edge. These shavings of metal go into the food and very dangerous. So this was a waste of money and incredibly dangerous. I am throwing it in the trash today.
WAS THIS REVIEW HELPFUL?YesReportShare
Reviewed in the United States on March 25, 2026
L
Verified Purchase
Lisandra Ramírez Galano
Boise, US
★★★★★ 5
Practical and easy to use
This electric can opener performs its function well and gets the job done effortlessly. With just the press of a button, it opens cans quickly and smoothly—which is very useful, especially if you prefer not to exert physical force. The design is comfortable to handle and does not take up much space in the kitchen. The battery life is good, and it recharges without any issues. Overall, it is a functional product that makes an everyday chore much easier.
WAS THIS REVIEW HELPFUL?YesReportShare
Reviewed in the United States on April 20, 2026
A
Verified Purchase
Adrian m.
Charlottesville, US
★★★★★ 5
Works great
Ive broken so many manual can openers from sheer strength and this eliminates that issue not only because it no longer needs my input but because this device actually works! Would definitely recommend it. Usb c charging is a god send, no batteries!
WAS THIS REVIEW HELPFUL?YesReportShare
Reviewed in the United States on April 20, 2026

recommand products