قائد اعظم کے 72 سال | خواجہ رضی حیدر
SKU: 48139143005

قائد اعظم کے 72 سال | خواجہ رضی حیدر

Sale price$270.00 Regular price$300.00
Save 10%

Shipping Estimate
USA
  • USA
  • CAN

Ships within 48 hours · Estimated delivery Jul 5 - Jul 10

Promo Codes Available:

For Your Every Summer RSVP, with Code: SUMMER15

Description

قائد اعظم کے 72 سال | خواجہ رضی حیدر: 7 1936 1937 1937 3 1938 : 1938 1938 22 1939 16 1940 ( ) ( ) 21 1940 : ! : 1936 1938 16 1940 1937 38 7 1943 1947 15 1947 4 1942 : 72 42 11 1948

قائداعظم کے خطاب کا تحقیقی جائزہ

از:۔ خواجہ رضی حیدر

گاندھی جی کی جانب سے محمد علی جناح کے لیے’’قائداعظم‘‘ کا خطاب استعمال کرنے کا سب سے زیادہ رنج مولانا ابوالکلام آزاد کو ہوا جس کا انہوں نے برسوں کے بعد اپنی کتاب ’’انڈیا ونز فریڈم‘‘ میں اظہار کیا۔

بحوالۂ تاریخ محمد علی جناح کے لیے سب سے پہلے یہ خطاب جمعیت علمائے ہند کے سیکریٹری مولانا احمد سعید دہلوی نے استعمال کیا تھا۔ محمد امین زبیری مارہروی نے اپنی کتاب ’’سیاستِ ملیہ‘‘ میں لکھا ہے کہ ’’7دسمبر 1936ء کو مراد آباد کی جامع مسجد میں مولانا احمد سعید دہلوی نے جناح کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ آج مسلمانوں میں سیاست کو سمجھنے والا اس سے بہتر کوئی شخص نہیں، لہٰذا مسلمانوں کے ’’قائداعظم‘‘ ہونے کے وہ بجاطور پر مستحق ہیں‘‘۔ جب کہ ایک معروف مصنف اور تحریکِ پاکستان کے قلمی معاون جمیل الدین احمد نے اپنی انگریزی کتاب ’’گلمپ سز آف قائداعظم‘‘ میں خیال ظاہر کیا ہے کہ محمد علی جناح کے لیے یہ خطاب دہلی کے پندرہ روزہ اخبار ’’الامان‘‘ کے مدیر مولانا مظہر الدین شیرکوٹی نے تجویز کیا تھا۔ مشہور صحافی اور شاعر عبدالمجید سالک نے اپنی کتاب ’’سرگزشت‘‘ میں خیال ظاہر کیا ہے کہ لاہور سے تعلق رکھنے والے تحریکِ خلافت کے ایک پُرانے کارکن میاں فیروز الدین نے لیگ کے جلسوں میں ’’قائداعظم زندہ باد‘‘ کے نعرے لگاکر اس خطاب کو مقبول بنایا۔ پروفیسر شریف المجاہد نے قائداعظم کے پرائیویٹ سیکریٹری مطلوب الحسن سید کے حوالے سے اپنی کتاب ’’قائداعظم جناح اسٹیڈیز اِن انٹرپریٹیشن‘‘ میں لکھا ہے کہ آل انڈیا مسلم لیگ کے سالانہ اجلاس لکھنؤ منعقدہ اکتوبر 1937ء میں مولانا ظفر علی خان نے محمد علی جناح کو قائداعظم کے خطاب سے مخاطب کیا۔ مولانا ظفر علی خان کے الفاظ تھے ’’ہمارے قائد محمد علی جناح، بلکہ میں تو یہ کہوں گا کہ ہمارے قائداعظم محمد علی جناح۔۔۔‘‘ دسمبر 1937ء کے اواخر میں محمد علی جناح آل انڈیا مسلم لیگ کے تنظیمی دورے پر بہارگئے تو اُس موقع پر کلکتہ کے اخبار ’’عصرِ جدید‘‘ نے اپنی 3جنوری 1938ء کی اشاعت میں ایک خبر کی سرخی میں لکھا: ’’گیا میں مسلمانانِ ہند کا قائد اعظم‘‘۔ اپریل 1938ء میں پنجاب کے وزیراعلیٰ سرسکندر حیات خان نے کلکتہ میں اپنی ایک تقریر کے دوران جناح کے لیے قائداعظم کا خطاب باربار استعمال کیا۔ غرض کہ 1938ء کے آغاز پر ہی محمد علی جناح کے لیے قائداعظم کا خطاب اس قدر عام ہوگیا تھا کہ تمام مسلم پریس اور رہنما جناح کو ’’قائداعظم‘‘ کے خطاب سے ہی مخاطب کرنے لگے تھے۔

یہاں یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ 22دسمبر 1939ء کو مسلمانانِ ہند نے کانگریسی حکومت کے خاتمے کی خوشی میں قائداعظم کی اپیل پر نہایت جوش و خروش سے یومِ نجات منایا۔ اس موقع پر گلبرگہ کے مسلمانوں نے ایک ٹیلی گرام گاندھی جی کو ارسال کیا جس کے الفاظ تھے ’’یومِ نجات کی تہنیت۔۔۔ قائداعظم زندہ باد‘‘۔ گاندھی جی کانگریسی حکومتوں کے خاتمے پر ویسے ہی چراغ پا تھے، یہ ٹیلی گرام ملتے ہی اور بھڑک اُٹھے۔ انہوں نے 16جنوری 1940ء کو قائداعظم کی خدمت میں ایک خط ارسال کیا جس کے آغاز پر محمد علی جناح کے بجائے محترم قائداعظم لکھا اور پھر خط میں وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ’’کسی ہندوستانی کے نام کے آگے ’’مسٹر‘‘ تحریر کرنا مجھے پسند نہیں اور یہ غیر موزوں بھی ہے، اس لیے حکیم صاحب مرحوم (حکیم محمد اجمل خان) کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق میں آپ کو ہمیشہ ’’جناح صاحب‘‘ کے الفاظ سے مخاطب کرتا رہا ہوں، لیکن امت السلام (گاندھی جی کی ایک داسی) نے مجھ سے کہا کہ لیگی حلقوں میں آپ کو قائداعظم کہہ کر مخاطب کیا جاتا ہے۔ اور اب یہ ٹیلی گرام دیکھ کر جو گلبرگہ سے وصول ہوا ہے اس کی مزید تصدیق ہوتی ہے۔ مجھے امید ہے کہ آپ باور کریں گے کہ جو کچھ میں نے کیا ہے وہ نیک نیتی کے ساتھ اور آپ کی خاطر کیا ہے۔ اگر آپ چاہیں کہ میں کسی دوسرے القاب سے آپ کو مخاطب کروں تو بہرحال اس کی بھی تعمیل کی جائے گی‘‘۔ گاندھی جی کے اس خط کا جواب قائداعظم نے 21جنوری 1940ء کو دیا۔ قائداعظم نے اپنے خط میں دیگر اُمور پر روشنی ڈالنے کے علاوہ اس خطاب کے استعمال کے بارے میں لکھا کہ: ’’القاب کی اہمیت ہی کتنی ہوتی ہے۔ گلاب کو خواہ کسی بھی نام سے یاد کیا جائے، اس کی خوشبو بہرحال باقی رہے گی۔ اس لیے میں اس معاملے کو آپ کی مرضی پر چھوڑتا ہوں اور اپنی کسی رائے کا اظہار نہیں کرتا۔ البتہ میری سمجھ میں یہ نہیں آتا کہ آپ اس کے لیے اتنے پریشان کیوں ہیں! بہرحال مجھے معلوم ہوا ہے کہ جو خطاب اس وقت آپ استعمال کررہے ہیں وہ حکیم صاحب مرحوم کے بتائے ہوئے ہیں، لیکن تعجب کی بات یہ ہے کہ حکیم صاحب کی زندگی میں بھی اور ان کے انتقال کے بعد بھی ایک عرصے تک آپ نے مجھے مسٹر ہی کے لفظ سے مخاطب کیا ہے، اس کے بعد سے حال تک آپ نے مجھے ’’شری‘‘ کے لقب سے مخاطب کیا ہے لیکن اس ضمن میں زیادہ تردد اور فکر کی حاجت نہیں‘‘۔

گاندھی جی کی جانب سے محمد علی جناح کے لیے’’قائداعظم‘‘ کا خطاب استعمال کرنے کا سب سے زیادہ رنج مولانا ابوالکلام آزاد کو ہوا جس کا انہوں نے برسوں کے بعد اپنی کتاب ’’انڈیا ونز فریڈم‘‘ میں اظہار کیا۔ وہ لکھتے ہیں: ’’یہ گاندھی کی ذات تھی جس نے ’’قائداعظم‘‘ کے خطاب کو جو مسٹر جناح سے منسوب ہوا، شہرت عطا کی۔ گاندھی کے کیمپ میں ایک سادہ مگر نیک خاتون مس امت السلام تھیں۔ انہوں نے چند اُردو اخبارات میں دیکھا کہ مسٹر جناح کو قائداعظم کہا گیا ہے، چنانچہ جب گاندھی جی مسٹر جناح سے ملاقات کا وقت طے کرنے کے لیے خط لکھ رہے تھے تو انہوں نے گاندھی جی سے کہا کہ اُردو اخبارات مسٹر جناح کو قائداعظم کہتے ہیں اس لیے آپ بھی یہی خطاب استعمال کیجیے۔ گاندھی جی نے اپنے اس عمل کے نتائج پر ایک لمحہ بھی غور کیے بغیر مسٹر جناح کو ’’قائداعظم ‘‘ لکھ کر مخاطب کرلیا۔ گاندھی جی کا یہ خط بعد میں اخبارات میں شائع ہوا۔ جب ہندوستان کے مسلمانوں نے یہ دیکھا کہ گاندھی جی نے بھی مسٹر جناح کو قائداعظم کہہ کر مخاطب کیا ہے تو انہوں نے بھی یہ طے کرلیا کہ واقعی مسٹر جناح قائداعظم ہیں۔‘‘

مولانا ابوالکلام آزاد کا یہ بیان صرف مولانا کی انانیت اور خفگی کو ہی ظاہر نہیں کرتا بلکہ ان کے اُس رنج کی بھی نشاندہی کرتا ہے کہ برصغیر میں یہ خطاب سب سے پہلے ان کے لیے استعمال ہوا تھا لیکن آج مسٹر محمد علی جناح کی ذات سے ہمیشہ کے لیے مخصوص ہوکر رہ گیا ہے۔ یہی نہیں بلکہ مولانا آزاد کے بیان کا یہ حصہ کہ گاندھی جی نے مسٹر جناح کو قائداعظم لکھ کر اس خطاب کو مسلمانانِ ہند میں قبولیت عطا کی، حقائق سے چشم پوشی کی واضح دلیل ہے۔ محمد علی جناح کو پہلی مرتبہ 1936ء میں قائداعظم کہا گیا اور پھر یہ خطاب 1938ء کے آغاز میں ان کے نام کا ایک حصہ بن گیا، جب کہ گاندھی جی نے بہت بعد میں یعنی 16جنوری 1940ء کو اپنے خط میں محمد علی جناح کے لیے قائداعظم کا خطاب استعمال کیا تھا۔

قائداعظم کا یہ خطاب محمد علی جناح کو ہندوستان کے مسلمانوں نے اپنے مکمل اعتماد کی علامت کے طور پر دیا تھا۔ اس طرح مسلمان کانگریس کے ان دعووں اور پروپیگنڈے کی بھی نفی کرنا چاہتے تھے جو کانگریس بعض قوم پرست مسلمانوں کو اسلامیانِ ہند کا رہنما بنانے کے سلسلے میں کرتی رہتی تھی، چنانچہ اس طرح مسلمانوں نے محمد علی جناح کو اپنی مکمل نیابت کا وہ حق بھی فراہم کردیا تھا جو اس دَور میں کسی اور مسلمان کو حاصل نہیں تھا۔

قائداعظم کا خطاب محمد علی جناح کے نام کے ساتھ استعمال ہونا اگرچہ 1937-38ء میں عام ہوگیا تھا لیکن جہاں تک لیگ کی سرکاری دستاویزات کا تعلق ہے، ان میں اس خطاب کو کئی برس بعد استعمال کیا گیا۔ سب سے پہلے لیگ کی دستاویزات میں یہ خطاب مسلم لیگ کونسل کی اُس قرارداد میں استعمال ہوا تھا جو 7مارچ 1943ء کو دہلی کے اجلاس میں منظور کی گئی اور جس میں لیگ کے ازسر نو صدر کی حیثیت سے محمد علی جناح کے انتخاب کی تجویز پیش کی گئی تھی۔ بعد ازاں محمد علی جناح کے نام کے ساتھ اس خطاب کے استعمال کی اہمیت ان کی اعلیٰ ترین قیادت اور ہندوستان کی سیاست میں ان کے مؤثر ترین کردار کی روشنی میں پوری دنیا پر واضح ہوتی چلی گئی۔ حتیٰ کہ جون 1947ء میں اسلامیانِ ہند کے لیے ایک علیحدہ وطن کے قیام کا مطالبہ تسلیم کرلیا گیا اور وہ اس ملکِ خداداد ’’پاکستان‘‘ کے بانی اور پہلے گورنر جنرل قرار پائے۔ ان کی اسی حیرت انگیز کامیابی، بے لوث خدمتِ قومی اور شاندار قیادت کو تسلیم کرتے ہوئے پاکستان کی پہلی دستور ساز اسمبلی نے پاکستان کے باقاعدہ قائم ہونے سے صرف دو دن قبل ایک قرارداد کے ذریعے یہ فیصلہ کیا کہ پاکستان کی آئین ساز اسمبلی کے صدر اور پاکستان کے نامزد گورنر جنرل مسٹر محمد علی جناح کو تمام سرکاری فرامین، دستاویزات، خطوط اور مراسلات میں 15اگست 1947ء سے ’’قائداعظم محمد علی جناح‘‘ لکھا جائے گا۔ ایک رہنما کی زندگی میں اس کی قوم کا یہ اعتراف بڑی تاریخی اہمیت کا حامل ہے۔ دنیا کی تاریخ میں کم ہی ایسے رہنما ہوں گے جن کو ان کی قوم نے متفقہ طور پر ایسی قدر و منزلت کی نگاہ سے دیکھا ہو اور پھر اس کا کھلے دل سے اعتراف بھی کیا ہو۔ اگرچہ قائداعظم محمد علی جناح ہر طرح کے القاب و خطابات سے بے نیاز تھے۔ وہ اپنی عوامی زندگی کے تمام عرصے میں ہمیشہ ہی حکومت کی طرف سے کوئی بھی عہدہ، منصب، خطاب یا لقب قبول کرنے سے گریزاں رہے، حتیٰ کہ انہوں نے مسلم یونیورسٹی علی گڑھ کی جانب سے ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگری تک لینا پسند نہ کی، حالاں کہ وہ اس یونیورسٹی کو بے حد عزیز رکھتے تھے۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی اس پیشکش کو قبول کرنے سے معذرت ظاہر کرتے ہوئے انہوں نے یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر ضیاء الدین احمد کے نام 4 اکتوبر1942ء کو اپنے خط میں لکھا: ’’بلاشبہ میں اس جذبے کی بے حد قدرکرتا ہوں جس کے ہاتھوں مجبور ہوکر مسلم یونیورسٹی کے کورٹ نے یہ فیصلہ کیا ہے، تاہم میں بادلِ نخواستہ یہ کہنا چاہتا ہوں کہ میں اب تک محض ’’مسٹر جناح‘‘ کی حیثیت سے زندگی بسر کرتا رہا ہوں اور یہ توقع کرتا ہوں کہ میں صرف ’’مسٹر جناح‘‘ کی حیثیت سے ہی انتقال کروں گا۔ میں ہر قسم کے خطاب، لقب اور اعزاز کا مخالف ہوں اور میرے لیے یہ زیادہ خوشی کی بات ہوگی کہ میرے نام کے ساتھ کوئی سابقہ نہ لگایا جائے‘‘۔

تاریخی تناظر میں دیکھا جائے تو پاکستان کی دستور ساز اسمبلی نے محمد علی جناح کو ’’قائداعظم‘‘ کا خطاب دے کر ان کی اُن خدماتِ جلیلہ کا عام اعتراف کیا تھا جو انہوں نے اپنی 72 سالہ زندگی میں تقریباً 42 سال پر محیط اپنی سیاسی اور عوامی زندگی کے دوران آزادی اور اسلامیانِ ہند کے لیے ایک علیحدہ وطن کے قیام کے لیے سرانجام دی تھیں، اور یہ ایک شاکر قوم کا اپنے مسلمہ رہنما کے لیے ایک جذباتی اور قلبی اعتراف تھا، جیسا کہ 11ستمبر 1948ء کو ان کے انتقال پر لندن کے اخبار ’’دی ٹائمز‘‘ نے اپنے اداریہ میں اعتراف کیا ہے کہ ’’محمد علی جناح، اُن لوگوں کے لیے جن کی انہوں نے رہنمائی کی، ’’قائداعظم‘‘ سے بھی بڑھ کر کچھ اور تھے اور جس اسلامی قوم کی تشکیل انہوں نے خود کی تھی، وہ اس کے معمار ہی نہیں بلکہ اس سے بھی زیادہ تھے‘‘۔


Shipping Notes
  • Free Standard Shipping on $100+ Orders to the USA.
  • Except Preorder products are shipped in 48 hours.
  • Delivery to the USA:
  1. Standard Shipping : 3-10 business days
  • If time is of the essence, please consider selecting expedited delivery for faster service.
Exchange/Return Notes
  • We offer a 30-day return/exchange service after receiving.
  • Final sale items are not eligible for returns or exchanges.
  • To process your return/exchange, please contact us at [email protected]
  • Please click here for more details>>> Return & Exchange Policy
SKU: 48139143005

Discover Niche Categories That Outsell

Top-Converting Item to Boost Your Average Order

4.8 ★★★★★
Based on 1859 reviews
Sort
Highest Rating
Newest First
Oldest First
Product Reviews
A
Verified Purchase
Andres Cobos
Waukegan, US
★★★★★ 5
Just what I needed!!!
Size: Width 16.5", Fully Adjustable Desk Mount, Style: Single, Size: Width 16.5", Fully Adjustable Desk Mount, Style: Single
Just what I needed to improve my posture while working from home. Having a lower table was killing my back and neck. Instructions pretty easy and clear for assembly, walks you through the steps to either use it for a laptop or for a monitor. Really easy to adjust, excellent range of motion in all 3 axes, and 90% is metallic so the quality is superb, greatly recommended!
WAS THIS REVIEW HELPFUL?YesReportShare
Reviewed in the United States on May 27, 2026
J
Verified Purchase
Juno
Los Angeles, US
★★★★★ 4
Sturdy, works well
Size: Width 16.5", Fully Adjustable Desk Mount, Style: Single
Been using this for awhile. I move it around a lot and it keeps up. My only complaint is it occasionally loosens so I have to find the tool and retighten it. Mine also came with a piece broken, and I never got any sort of replacement part. That's a bit on me, but it's rather annoying when one of the laptop clips continuously falls off.
WAS THIS REVIEW HELPFUL?YesReportShare
Reviewed in the United States on May 21, 2026
D
Verified Purchase
DanniKalifornia
Chelsea, US
★★★★★ 5
Absolutely fabulous products!
Size: Width 14", Adjustable Desk Mount, Style: Dual
The only downfall of this product is that there is no instant up/down adjustment on the arms. Otherwise this mount is outstanding. It is easy to put together, the only items you'll want that aren't in the box are a screwdriver and a wrench. It went up in just a couple of minutes, and it's sturdy and very well made. I like that I can put it flush to a wall because it does not need any room behind it. This is beyond amazing for the inexpensive cost. I would buy it again in a heartbeat. Also adding to the awesomeness is an array of additional arms and accessories for this you can find from Wali to make your setup perfect for you, all at great prices. I've got my office setup complete with three arms and two laptop trays and the whole thing cost less than a single arm I purchased from Amazon Basics. Handy thought regarding the laptop trays is that they're a nice size, and with the catch at the bottom, I've found I like to use it as a literature tray. I drop a book on there and it holds it at a nice angle to read from when transferring or referencing data. The trays do bounce some when typing, but much less than any other type of arm/tray system I've ever used. Highly recommended!
WAS THIS REVIEW HELPFUL?YesReportShare
Reviewed in the United States on January 13, 2019
A
Verified Purchase
ADReviews
Chelsea, US
★★★★★ 5
Not as complicated to put together as it seems, and quite sturdy
Size: Width 14", Adjustable Desk Mount, Style: Triple
When I first unpacked this stand, I was initially overwhelmed by the number of parts that were included in the package. I didn’t realize there were extra parts included to offer you two choices for how to mount the stand to your workstation. Once I got that sorted out, I relaxed a bit more and was able to assemble the unit single-handedly and mount two 22” monitors and a laptop to give myself more room on my desk. It was a bit challenging to move the arms to just the right angles and height, but I did get it after a few tries. I used the re-positionable clamp instead of the desk- through grommet mount. It feels very sturdy, and I feel as long as I periodically check the tension and tightness of the bolts, it will hold up everything just fine. I am not thrilled with the cable management clamps that attach to the round center pole, so I’ll probably end up looking for different clamps or even just velcro fasteners to loop around the post. The clamps that snap onto the arms themselves are fine and hold the Displayport and power cords in place well. I thought about dinging this unit a star for the weird center post clamps and also because the black coating on part of the round post is flaking off, but really, I can work with those things/cover up the cosmetic issues. I was super-impressed by the way the hardware was included in labeled, individual plastic compartments. The instructions were pretty good, too, although I would have liked the print to be a little larger - once you hit your forties, you reach for readers or have to get up close and squint to see small print… Overall, I’m pleased with this unit.
WAS THIS REVIEW HELPFUL?YesReportShare
Reviewed in the United States on January 12, 2025
J
Verified Purchase
Julie
Port Orchard, US
★★★★★ 5
Game changer
Size: Width 14", Adjustable Desk Mount, Style: Dual, Size: Width 14", Adjustable Desk Mount, Style: Dual
**update 2026** Okay I've just upgraded this mount so let me update my review. I am keeping 5 stars because for an entry level budget mount it did its job. Here's why I changed: if your desk is not solid wood, the base of the mount is too narrow and will start to sink in. Also, after a few years one of the arm started to sag. I upgraded for a mount double this price so not outrageous but the base is wider and the arms are sturdier. I am still happy I purchased that one because for my budget it did the job so these years and it's better than not having it. Still recommend if your budget is low and you need to save desk space, it's a great starter. If you can wait and save twice this, I suggest you do and skip to the better ones though. **original review 2020** Been using this mount for about 3 months, time to review: It is an absolute game changer! Cheap, easy to assemble and install, feels sturdy. At first my wife was skeptical because she thought it would be a gimmick but it frees up so much space, it brings both monitors to the same eye-level height, the mouse cable never gets stuck under the laptop anymore, and it holds the cables in place so that when she has to run with the laptop they don't fall behind the desk anymore (see picture). All these little details improved her productivity. And just visually it looks much better I think. Laptop: 15" Monitor: 24"
WAS THIS REVIEW HELPFUL?YesReportShare
Reviewed in the United States on January 9, 2020

recommand products